Type Here to Get Search Results !

کلام اعلی حضرت کی تشریح

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
قصیدہ معراجیہ کا یہ شعر:
کمانِ امکاں کے جھوٹے نقطو تم اوّل آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے
 مذکورہ شعر کی عالمانہ توضیح و تشریح
 شارح : ڈاکٹر مفتی محمد علاؤالدین قادری رضوی ثنائی 
صدرافتاء : محکمہ شرعیہ سنی دارالافتاء والقضاء میراروڈ ممبئی

یہ شعر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی فکری وسعت، عرفانی گہرائی اور علمی گیرائی کا نادر نمونہ ہے، جس میں تصوف، فلسفہ، ہندسہ (جیومیٹری) اور سیرت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقتوں کو ایک بلند شعری قالب میں سمو دیا گیا ہے۔ آئیے اس شعر کے مفاہیم کو چند نمایاں جہتوں سے کھول کر سمجھتے ہیں:
 1. "کمانِ امکاں" عالمِ امکان کی کمان
کمان سے مراد تیر انداز کا وہ آلہ ہے جو گولائی میں خم دار ہوتا ہے۔ یہاں یہ استعارہ ہے عالمِ امکان (ممکنات کی دنیا) کے لیے، یعنی یہ جہان جو "ممکن" ہے، "واجب" نہیں۔ اور چونکہ "کمان" خمیدہ اور غیر کامل چیز ہے، اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عالمِ امکان فطرتاً محدود ، ناقص اور ظاہری مشاہدات کا محتاج ہے۔
 2. "جھوٹے نقطے" — محدود فہم والے
"جھوٹے نقطے" سے مراد وہ قاصر العقل، ظاہربین، فلسفی یا متکلمین ہیں جو عقلِ محدود سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت و سیرت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ "اوّل" اور "آخر" جیسے الفاظ میں الجھ کر خطِ زمان (Linear Time) پر سوچتے ہیں، جبکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقتِ محمدیہ اس زمانی و مکانی قید سے ماورا ہے۔
 3. اوّل و آخر کا چکر ، خطی تصورِ وقت کی محدودیت
یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت یا ظاہری ولادت کو ایک مخصوص "وقت" میں مقید دیکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر ان کے آنے جانے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، جیسے کوئی تیر کمان سے نکل کر ایک خاص مقام سے چلتا ہے اور کسی مقام پر ختم ہوتا ہے ۔ مگر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ یہاں خطی (linear) وقت کی نفی کرتے ہیں، اور دائری (cyclic/eternal) وقت یا وجودِ خارج از زمان کا تصور پیش کرتے ہیں۔
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں 
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
 4. "محیط کی چال" گول دائرہ ، مرکز ، محیط
"محیط" یعنی دائرہ۔ دائرہ وہ ہندسوی (geometric) شکل ہے جس کا کوئی نقطہِ آغاز یا انجام نہیں ہوتا، بلکہ ہر نقطہ مرکز سے یکساں فاصلے پر ہوتا ہے۔ یہ وہ تصور ہے جو فلسفۂ وقت و وجود میں ازلیت، ابدیت اور لا مکانی کی علامت ہے۔
پرکار کی مثال سے بات اور بھی واضح ہوجاتی ہے ۔
پرکار کا ایک سرا مرکز (مرکزی نقطہ) پر ہوتا ہے اور دوسرا گھومتا ہے ، دائرہ مکمل ہونے پر کسی خاص نقطے کو آغاز یا انجام قرار دینا ممکن نہیں رہتا۔ اب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کے اس نورانی و عرفانی سفرِمعراج کا تصور کریں اور اس مصرعہ کو دل کی اتھاہ گہرائی سے گنگنائیں ! مقصود و مطلوب تک رسائی ہوجاۓ گی ۔ 
محیط کی چال سے سے تو پوچھو کدھر سے آۓ کدھر گئے تھے ۔ ع
 5. فلسفۂ وجود ، حقیقتِ محمدیہ کی جہت
اعلیٰ حضرت امام احمدرضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس ہندسی مثال کے ذریعے بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کا آنا جانا بھی ایسے ہی ایک لازمانی و لامکانی دائرے کا حصہ ہے۔ وہ "جہاں" سے آئے، وہ بھی "نور"، اور "جہاں" تشریف لے گئے، وہ بھی "نور"۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم قوسِ نزول و قوسِ عروج کے درمیان ایک کامل دائرہ بناتے ہیں ۔ یہی "قابَ قوسین" کا مفہوم ہے، جو معراج کے وقت بیان ہوا ۔
 " ثمّ دنا فتدلّٰی فکان قاب قوسین أو أدنیٰ " ( النجم )
یہ دائرہ "قاب قوسین" کا دائرہ ہے ۔ جہاں نقطہِ مرکز ذاتِ الٰہی ہے اور محیط میں محمد عربی صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و حقیقت کی نقش نگاری ہے لیکن اس میں نہ ابتدا ہے نہ انتہا ، بلکہ "کانَ نبیًّا و آدم بین الماء والطین" (یعنی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نبوت کا مقام زمانی قیود سے ماورا ہے)۔
 6. عرفان و تصوف 
یہ شعر "فنا و بقا" کے سفر کو بھی چھوتا ہے۔ دائرہ حقیقت میں سلوک کے مکمل ہونے، کشفِ ذات اور رجوع الی اللہ کی علامت ہے۔
سلوک کی ابتدا طلب سے ہوتی ہے، وسط میں معرفت، اور آخر میں فنا فی اللہ — اور جب دائرہ مکمل ہو، تو سالک "میں" کی قید سے آزاد ہو کر عینِ حق کے قریب ہو جاتا ہے۔
اسی طرح، نبی کریم ﷺ کی بعثت بھی ایک ظاہری آغاز ہے، مگر حقیقت میں آپ ﷺ ازل سے "نورِ اوّل" ہیں، اور ابد تک "سببِ تخلیقِ کائنات"۔
وہی ہے اول ، وہی ہے آخر ، وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر 
اسی کے جلوے، اسی سے ملنے ، اسی سے اس کی طرف گئے تھے
 7. علمِ جیومیٹری کا شعری استعمال
اعلیٰ حضرت نے ہندسی استعارہ (Geometric Metaphor) کو جس لطافت اور نکتہ سنجی سے استعمال کیا ہے ، وہ اردو شاعری میں نایاب ہے۔ انہوں نے:
پرکار کا استعارہ دیا ، مرکز اور محیط کا تصور کا جو تصور پیش کیا یہ انہیں کا خاصہ ہے
نقطہِ اوّل و آخر کی نفی کی
خطی تصورِ وقت کے بجائے دائری و ہمیشگی کا فلسفہ پیش کیا
اور ساتھ ہی حقیقتِ محمدیہ کا عرفانی پہلو اجاگر کیا
یہ شعر بظاہر سادہ، مگر باطن میں عمیق ترین عرفانی و عقلی نکات سے بھرپور ہے۔ اس میں ایک طرف:
کلامِ الٰہی کی تفسیر (قاب قوسین)
فلسفہ و منطق کی گرفت امکان، زمان، مکاں ، ماہرین منطق و فلسفہ سے پوشیدہ نہیں 
مذکورہ شعر میں علمِ جیومیٹری کا جمالیاتی استعمال خوب ہے 
اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مقامِ فَوق العقول کو
اس طرح سمو دیا گیا ہے کہ ایک معمولی قاری کے فہم سے اوجھل، مگر صاحبِ نظر کے لیے چشمِ حیرت ہے۔
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی نعتیہ قصیدہ " قصیدہ معراجیہ " کی ادبیت ، مقناطیسیت ، جاذبیت شعریت و مقبولیت کا اندازہ مندرجہ ذیل واقعہ سے لگا سکتے ہیں کہ
 اردو کے مشہور نعت گو شاعر محسن کاکوروی واقعہ معراج پر ایک قصیدہ معراجیہ لکھا اور اسے سنانے کے لئے امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل کیا۔ ان کے قصیدہ کا مطلع تھا ۔
سمت کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لائی ہے صبا گنگا جل
ایک نشست میں جوں ہی محسن کاکوروی نے اس کے اشعار سنانے شروع کئے۔ ابھی دو اشعار ہی پڑھ سکے تھے کہ حضرت فاضل بریلوی نے فرمایا اب بس کیجیے ! عصر کی نماز کے بعد بقیہ اشعار سنے جائیں گے۔ اسی اثنا یعنی عصر سے پہلے ہی آپ نے اپنا یہ قصیدہ معراجیہ لکھااور جب مجلس دوبارہ بیٹھی تو پہلے فاضل بریلوی نے اپنا قصیدہ معراجیہ سنایا۔ اسے سنکر محسن کاکوروی نے فرمایا
"مولانا اب بس کیجیے اس کے بعد میں اپنا قصیدہ نہیں سنا سکتا"
اسی طرح ایک مرتبہ محدث اعظم ہند حضرت مولانا سید محمد اشرفی میاں رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ لکھنو کے ادیبوں کی ایک شاندار محفل میں حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا قصیدہ معراجیہ میں نے اپنے مخصوص انداز میں پڑھ کے سنایا تو صاحبان علم و ادب زبان کی سلاست و روانی ، ردیف و قافیہ کی بندش اور اس کی جامعیت و معنویت دیکھ کر سب بے خود ہونے لگے ، سب پر اضطرابی کیفیت طاری ہوگئی تو میں نے اعلان کیا کہ اردو ادب کے نقطہ نظر سے میں ادیبوں کا فیصلہ اس قصیدہ کی زبان کے متعلق سننا چاہتا ہوں۔ تو سب نے کہا
اس کی زبان کوثر و تسنیم کی دھلی ہوئی ہے ۔ 
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے ۔ ع
فقط 
 وماتوفیقی الا بااللہ العظیم

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad

Ads Area